آئین کیا ہے؟

دستور یا آئین کسی حکومت کیلئے قوانین اور اُصولوں کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ایک سیاسی وجود کے اختیارات اور کارکردگیوں کو محدود اور متعیّن کرنے کے ساتھ ساتھ عدالتی اور انتظامی امور کے دائرہ کار کا بھی تعین کرتا ہے۔کچھ ملکوں میں یہ دستور ایک  تحریری دستاویز کی شکل میں ہو تا ہے جیسا کہ پاکستان، امریکہ اور چین وغیرہ۔جبکہ چند ایسے ممالک بھی ہیں جن کا کوئی تحریری دستور نہیں بلکہ چند دستاویزات، قوانین و فرمان اور روایات کے مجموعے کو دستور کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، ایسے ملکوں میں برطانیہ شامل ہے۔ عمومی  طور پرتمام ممالک کا کسی نہ کسی شکل میں دستور لازمی ہوتا ہے۔

:آئین ِ پاکستان

آئین پاکستان کوپاکستان کادستوراوراسلامی جمہوریہ پاکستان دستور1973ءبھی کہتےہیں۔ تاریخی اعتبار سے یہ پاکستان میں بننے والا تیسرا آئین تھا۔ اس سے پہلے 1956ء اور 1962ء میں بھی پارلیمان نے علیحدہ علیحدہ مسودے تیار کیے تھے جو ملک میں آئین کے طور پر اپنائے گئے تھے، جو بالترتیب 1958ء اور 1969ء میں کالعدم قرار دیے گئے۔ 1973ء میں بننے والے اس آئین کے چیدہ نکات یہ تھے کہ ملک میں پارلیمانی نظام ِ حکومت ہو گااور وذیر اعظم ملک کا سربراہ ہوگا جسے اکثریتی جماعت منتخب کرے گی۔ پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو گا۔ اور آئین میں ترمیم کیلئے ایوان زیریں (یعنی نیشنل اسمبلی) میں دو تہائی اور ایوان بالا (یعنی سینٹ) میں بھاری اکثریت ہونا ضروری ہے۔

:ساخت

ساخت کے اعتبار سے آئین بارہ  حصوں پر مشتمل ہے ۔ ان میں حصہ اول “ابتدائیہ”، حصہ دوم”بنیادی حقوق اور حکمت عملی کے اصول”، حصہ سوم “وفاق پاکستان” ، حصہ چہارم ” صوبائی نظام” ، حصہ پنجم ” وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات” حصہ ششم” مالیات، جائیداد، معاہدات اور مقدمات” ، جبکہ حصہ ہفتم ” نظام عدالت ” پر مبنی ہے۔ مزید حصہ ہشتم ” انتخابات ” ، حصہ نہم “اسلامی احکام” ، حصہ دہم ” ہنگامی احکام ” حصہ یا از دہم ( گیارہواں) ” دستور کی ترمیم” جبکہ حصہ دو از دہم(بارہواں) “متفرقات ” پر مشتمل ہے۔